پیاری خواتین! آپ کو اپنے لئے شوہر انتخاب کرنے کا پورا حق ہے۔

ہم جس زمانے میں رہتے ہیں وہ ہائبرڈائزیشن کا زمانہ ہے۔ بنیادی انسانی حقوق موجودہ دور کی بنیادی ضرورت ہیں۔ جبری شادیوں کو کسی بھی مذہبی یا ثقافتی بنیاد پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بین الاقوامی قانون میں، جبری شادیاں گھریلو تشدد کی ایک شکل ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں جبری شادیوں کو ارینجڈ میرج کے الفاظ میں چھپا کر پیش کیا جاتا ہے۔

Shaadee.pk

اس طرح کی شادیوں کے پیچھے والدین، معاشرہ، ثقافتی ضابطے سب سے بڑی وجہ ہیں۔ نے اس معاملے پر اپنی راۓ پیش کی ہے، اور جبری شادی کی تفصیلات پر روشنی ڈالی ہے۔

 پاکستان میں شادی ایک فرد کی پسند کم ، بوجھ زیادہ ہے۔ اس کی بنیاد مالی تحفظ اور والدین کی مرضی ہے۔ رومانس تو قابل ذکر ہی نہیں ہے۔ برائے مہربانی اپنی بیٹیوں کو مجبور نہ کریں کہ وہ ان سے شادی کریں جسے وہ پسند نہیں کرتی۔

اسے صرف اس لیے ایسے رشتے میں نہ باندھو کہ بس بزرگوں کو لگتا ہے کہ رشتہ کامیاب فہے گا محض اس لئیے کہ وہ چچا زاد ہے، اچا کماتا ہے وغیرہ۔

پاکستان میں والدین اپنی بیٹیوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ان کے رشتہ داروں کو خوش کریں ۔کیونکہ انہوں نے اپنی بیٹیوں کو اپنے بھائیوں اور رشتہ داروں کے  بیٹوں کے  نام کرنے کا وعدہ کیا ہوتا ہے۔ اس صورت حال میں لڑکیوں کو سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے اپنے ماں باپ کے وعدے نبھانے کے لئیے

پھر ایک یا دو بچے پیدا کرنے کے بعد، لڑکیاں یہ بات یکسر بھلا دیتی ہیں کہ انہوں نے اس آدمی سے کیسے اور کیوں شادی کی تھی، جسے وہ کبھی نہیں چاہتی تھی- آہستہ آہستہ اندر کی خوشی مر جاتی ہے اور پیچھے رہ جاتی ہے ایک روٹین ایک زندگی جس میں بس بچوں کو پالا جاتا ہے۔ یہ صرت حال  نفسیاتی روپ دھار لیتی ہے اور گھریلو زندگی میں مسائل کو جنم دیتی ہے۔

مشرقی معاشروں میں، خواتین کی خاموشی کو ان کے والدین کی طرف سے پیش کردہرشتوں کی تجاویز پر ہاں کے طور پر لیا جاتا ہے، جبکہ خاموشی کا مطلب ہا نہیں جبر ہے ۔

 معاشرے میں والدین کی عزت اور نام کی خاطر قربانی دینے کی سوچ اس کے پیچھے اہم وجہ ہے۔ خواتین سے وابستہ آنر اور “خواتین خاندان کی عزتوں کی محافظ “اس عمل میں اہم کار فرما ہیں۔ 

والدین کو اپنی بیٹیوں کی مرضی تلاش کرنی چاہیے۔

ایسی شادیوں کے نتائج بدتر اورمگر پوشیدہ ہوتے ہیں اس لئے اس پر بات نہیں کی جاتی۔لڑکیوں میں ایسی شادی سے  ایک احساس یہ بیدار ہوتا ہے کہ اب ان کا اپنی زندگی پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ بہت سی خواتین ڈپریشن کا شکار ہو جاتی ہیں، خود کو نقصان پہنچاتی ہیں یا بدترین صورت میں خودکشی کی کوشش بھی کرتی ہیں۔

ایسی زندگی گزارنا، جو آپ نہیں گزارنا چاہتے اکثر خود کشی پر ختم ہوتی ہے۔

 آئیے اس حساس مسئلے کے بارے میں آگاہی اور علم پھیلانے میں ساتھ چلیں۔ shaadee.pk اور iMarriage.pk جیسے پلیٹ فارم اس سلسلے میں کافی مدد فراہم کرتے ہیں۔  یہ پاکستان کے بہترین میرج پورٹلز میں سے ایک ہے۔ اس پر رشتے تلاش کریں اور جبر کی شادی کہ نہ کہیں۔ رشتہ تلاش کرتے وقت اپنے انتخاب اور معیار کو اپنے خاندان اور والدین کے انتخاب پر ترجیح دیں۔ یہ آپ کی زندگی ہے.

Check Also

جہیز سے بھرے ٹرالروں کی بجائے وراثت کا حق؟

‎جہیز کو بطور اصطلاح کبھی مثبت نہیں لیا گیا۔ پھر بھی ، اس لفظ کو …