اگر طلاق کا حق عورت کے پاس ہوتا تو کیا ہوتا

کچھ لوگ آپ کو یہ کہتے سنائی دیں گے کہ طلاق کا حق عورت کے پاس ہوتا تو کبھی کوئی گھر سلامت نہ رہتا۔
اگر حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات صادق نہیں آتی کیونکہ مڈل کلاس طبقے کی خواتین میں پہلے سے ہی یہ
رجحان عام پایا جاتا ہے کہ آج کل کنواری لڑکیوںکے رشتے نہیں آرہے تو طلاق یافتہ کے رشتے آنا تو اور ہی
محال ہے۔ اس بات کو سوچ کر خاص طور پر خواتین طلاق کے نام سے لرز جاتی ہیں۔ اگر طلاق کا حق خواتین
کے پاس ہوتا تو میرے خیال سے طلاق کی شرح مزید کم ہوجاتی۔
ہماری سوسائٹی میں زیادہ تر آبادی مڈل کلاس طبقے پر مشتمل ہے۔ جہاں معاشی مسائل کے علاوہ بچے پاوں کی
زنجیر بن جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ درمیانے طبقےکے لوگوں میں طلاق ایک taboo ہے۔ جس کی وجہ سے
خواتین شادی کو ازیت ناک حد تک گزارنے اور نبھانے کی کوشش کرتی ہیں۔
اگر تمام چیزوں کو بلائے طاق بھی رکھا جائے تو تب بھی اگر طلاق کا حق خواتین کے پاس ہوتاتو بھی طلاق
کی شرح اسی طرح رہتی جتنی اب ہے۔ جہاں تک پسماندہ اور دہی علاقوں کی بات ہے تو وہاں پر شعور کی کمی
ہونے کی وجہ سے مرد اپنی عورتوں کو تین تو کیا تیس بار طلاق دے چکے ہوتے لیکن عورت گھر چھوڑ کر نہیں
جاتی۔
اگر مرد مارپیٹ کر گھر سے نکال بھی دے تو گھر والے سمجھا بجھا کر گھر واپس چھوڑ جاتے ہیں اور یوں عورت
کو اس معاشرے کے پریشر اور بچوں کی مجبوری اور معاشی حالات کی وجہ سے اپنے شوہر کے گھر رہنا ہی پڑتا
ہے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ طلاق کا حق عورت کے پاس ہوتا تو ہر روز طلاقیں ہوتی تو شاید وہ ان عورتوں
کے بارے میں کہتے ہیں جو ہائی کلاس سے تعلق رکھتی ہیں اور معاشی طور پر مظبوط ہوتی ہیں جن عورتوں کے
لیے دوسری شادی کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہوتی۔ اس کلاس سے تعلق رکھنے والی عورتوں کی تعداد بہت کم ہوتی
ہے۔ ان کو ہم پورے معاشرے پر generalize نہیں کرسکتے۔
اگرچہ موجودہ دور اور آنے والے دور میں حالات بدل رہے ہیں۔ عورتیں اب گھر یلو تشدد اور بعض دوسری
وجوہات کی بنا پر طلاق لینے کو ترجیح دے رہی ہیں۔ لیکن ابھی تک یہ رجحان دہی علاقوں تک نہیں پہنچا۔ صرف
پڑھی لکھی عورت جو کمانے والی ہواور اسے خاندانکی سپورٹ حاصل ہو وہ یہ کر سکتی ہے۔
اگر طلاق کاحق عورت کے پاس ہوتا تو بہت سے گھر ٹوٹنے سے بچ جاتے نہ کہ طلاق کی شرح میں اضافہ ہوتا۔