‎خود ترسی نہیں بلکہ خود پر تنقید کرنا سیکھیں

‎اس ہائی پریشر سو سائیٹی اور پاگل دنیا میں زندہ رہنے کے لیے، ہمیں  خود تنقیدی میں بہت ماہر ہونا چاہیے۔

‎ہمیں یہ سیکھنا چاہئیے کہ کس طرح اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کے لئیے نہ صرف خود کو فیس کرنا ہے بلکہ ان پر لوگوں کی طرف سے تنقید کے لیے برداشت بھی پیدا کرنی ہے۔ تنقید تعریف دونوں ہی زندگی کا حصہ ہیں ۔

‎جس بھی لمحے ہم اپنی ناکامیوں کو یاد کرتے ہیں، ہم اداسی محسوس کرتے ہیں اور گہرے دکھ میں نیچے پاتال کی گہرائی تک چلے جاتے ہیں۔ ہمیں ان لمحات کے لیے خود سے ہمدردی کی ضرورت ہے۔ ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ یہاں پر خود ترسی کرنی ہے یا اپنے آپ کا اینا لائسز کرنا ہے۔

‎ کیونکہ خود ترسی اور خود سرزنش میں باریک سا فرق ہے۔

‎جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ڈپریشن زندگی کا دشمن ہے، ہمیں خود کی دیکھ بھال کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں خود ہمدردی کی مشق کرنی چاہیے۔ پہلا قدم اس احساس کے ساتھ اٹھانا ہے کہ ہم نے ناکامی کو کیسے لینا ہے

‎ہم ان آزمائشوں کے پیمانے کو محسوس کرنے میں ناکام رہتے ہیں جو ہم معمول کے مطابق خود ترتیب دیتے ہیں۔ دوسرا پہلو، ہم سب کے کچھ خاندانی پس منظر ہیں جو ہماری کچھ کامیابیوں کے حق میں نہیں ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہم اس کام کے لیے مقرر نہیں تھے بجاۓ اس پر کہ ہم خود ترسی میں منتلا ہو جائیں ہمیں خود کو سمجھانا چاہئیے

‎نہ ہی مکمل طور پر ہمارا قصور ہوتا ہے اور نہ ہی مکمل طور پر ہم بے قصور ہوتے ہیں۔

‎پ کو خود پر الزام یا جرم کے بوجھ سے آزاد کرنا ہے جسے آپ طویل عرصے سے برداشت کر رہے ہیں۔ آپ سوشل میڈیا پر کامیاب کہانیوں کو سیریز مت لیں۔ یہ ہم محض نے فرض کر رہے ہوتے ہیں کہ ہر کسی کو کامیابی مل رہی ہے۔

حالانکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔

‎آپ نہیں جانتے کہ کامیابی کے اس حد تک پہنچنے میں انہیں کتنا وقت لگا۔ جو لوگ خود تنقید کے کھیل میں ہیں وہ ناکامی کا بوجھ قسمت پر نہیں ڈالتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ان کے ساتھ ہوا وہ ان کی غلطی تھی۔ وہ ہر چیز کی ذمہ داری

‎خاموشی سے لے لیتے ہیں۔

‎وجودیت کے نظریہ میں، فلسفی کہتے ہیں کہ ہم موجود ہیں، لیکن ہم اپنی زندگی کے معنی نہیں جانتے۔ ہمیں اپنے وجود کا جوہر تلاش کرنا ہے اور اپنی اصل فطرت کے مطابق عمل کرنا ہے، جب کہایک  گروہ کا کہنا ہے کہ قسمت ہماری پیدائش سے پہلے سے ہی لکھ دی جاتی ہے۔

‎جب ہم پیدا ہوتے ہیں، ہم اپنے اس حقیقی جوہر کو لیتے ہیں اور جو کچھ پہلے سے لکھا جا چکا ہے اس کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہم نے خود کو مکمل کنٹرول میں لے لیا ہے۔ اسی لیے جب ہم کریش کرتے ہیں؛ ہم خود کو ذمہ دار سمجھتے ہیں. پانچویں مرحلے میں، ایسا لگتا ہے کہ یہ کبھی ختم نہیں ہوگا، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ ایک اقتباس اس صورت حال کی تصویر کشی کرتا ہے کہ ’’یہ بھی

‎ گزر جائے گا‘‘۔ یاد رکھیں تبدیلی مستقل ہوتی ہے۔

‎ہم، بحیثیت انسان، ایک روٹین یا پوزیشن پر قائم رہنے سے قاصر ہیں۔ ماحول اپنے آپ کو بدلتا رہتا ہے، اور اسی طرح آپ کا باطن، مزاج، رویے اور صلاحیتیں بھی بدلتی رہتی ہیں۔

‎وقتی طور پر، آپ کو اپنے آپ سے توقعات کو صفر تک کم کرنے کی ضرورت ہے اور نئی بنیادیں اور معیارات قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جو آپ کی ہمت، وقت اور اہلیت سے زیادہ نہ ہوں۔ اپنے آپ کو اس حد تک نہ دھکیلیں جہاں آپ پہنچ نہیں سکتے۔ اس کے بجائے، ایک نئی زندگی جینے کی کوشش کریں

اور یہی مثبت رویے آپ کی شادی شدہ زندگی میں انقلاب پیدا کرتے ہیں۔ اور آپ کو کامیابی کی طرف گامزن کرتے ہیں ۔

شادی پی کے آپ کو سکھا رہا ہے جدت اور تراکیب کہ کس طرح آپ اپنی زندگی پر خود قابو پا کر اسے ایسی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں جو راہ آپ کی آئیڈیل ہے

Check Also

جہیز سے بھرے ٹرالروں کی بجائے وراثت کا حق؟

‎جہیز کو بطور اصطلاح کبھی مثبت نہیں لیا گیا۔ پھر بھی ، اس لفظ کو …